Tuesday, 28 July 2026

Allah ki madad

 

Surat No 61 : سورة الصف - Ayat No 13 


وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾


 اور تمہیں ایک دوسری ( نعمت ) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وہ اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے ، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو ۔  





Allah ke madadgar kese ban sakte he is ayat me bataya gaya he

Surat No 61 : سورة الصف - Ayat No 14 


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾  10


 اے ایمان والو! تم اللہ تعالٰی کے مددگار بن جاؤ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وہ غالب آگئے ۔  






Surat No 3 : سورة آل عمران - Ayat No 160 


اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾


 اگر اللہ تعالٰی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ایمان والوں کو اللہ تعالٰی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔  





Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 249 


فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾


 جب ( حضرت ) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالٰی تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے ، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے ۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وہ پانی پی لیا ( حضرت ) طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں لیکن اللہ تعالٰی کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں ، اللہ تعالٰی صبر والوں کے ساتھ ہے ۔  






Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 250 


وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۵۰﴾ؕ


 جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما ۔  





Allah par momino ki madad karna lazim he to ham momin Bane 

Surat No 30 : سورة الروم - Ayat No 47 


وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَانۡتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا ؕ وَ کَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾


 اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلیلیں لائے ۔ پھر ہم نے گناہ گاروں سے انتقام لیا ۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے ۔  







Rasool se muh mode to Allah dunya or akhirat me dardnak azaab dega yani Allah ki madad tab ayegi jab nabi saw ke tarike par honge

Surat No 9 : سورة التوبة - Ayat No 74 


یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ وَ ہَمُّوۡا بِمَا لَمۡ یَنَالُوۡا ۚ وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَاِنۡ یَّتُوۡبُوۡا یَکُ خَیۡرًا لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّتَوَلَّوۡا یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ مَا لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۷۴﴾


 یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا ، حالانکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دولتمند کر دیا اگر یہ بھی توبہ کرلیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ موڑے رہیں تو اللہ تعالٰی انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا ۔  





Allah hi madadgar he Allah ke alawa koi madadgar nahi

Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 107 


اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾


 کیا تجھے علم نہیں کہ زمین اور آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں ۔  






Surat No 46 : سورة الأحقاف - Ayat No 28 


فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾


 پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وہ تو ان سے کھو گئے ( بلکہ دراصل ) یہ ان کا محض جھوٹ اور بالکل بہتان تھا ۔  




Allah ne bastiyon ko tabah kar Diya unke bure amaal ki wajah se gunha ki wajah se 

Surat No 46 : سورة الأحقاف - Ayat No 27 


وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَا حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۷﴾


 اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباہ کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وہ رجوع کرلیں ۔  





Surat No 57 : سورة الحديد - Ayat No 25 


لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿٪۲۵﴾  19


 یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان ( ترازو ) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت و قوت ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے بےشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے ۔  




Tum Allah ki madad Karo Allah tumhari madad karega or tumhe sabit qadam rakhega

Surat No 47 : سورة محمد - Ayat No 7 


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾


 اے ایمان والو! اگر تم اللہ ( کے دین ) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا ۔  




Surat No 61 : سورة الصف - Ayat No 14 


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾  10


 اے ایمان والو! تم اللہ تعالٰی کے مددگار بن جاؤ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وہ غالب آگئے ۔  





Surat No 24 : سورة النور - Ayat No 55 


وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾


تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں ۔ 





Allah ka nizam nek bando ke hath me hoga dunya ke waris nek log honge

Surat No 21 : سورة الأنبياء - Ayat No 105 


وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾


ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ( ہی ) ہونگے ۔ 






Surat No 14 : سورة إبراهيم - Ayat No 14 


وَ لَنُسۡکِنَنَّـکُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِیۡ وَ خَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾


اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوف زدہ رہیں ۔ 







Surat No 7 : سورة الأعراف - Ayat No 95 


ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الۡحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّ قَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۹۵﴾


پھر ہم نے اس بد حالی کی جگہ خوش حالی بدل دی ، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباؤ اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتًا پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی ۔ 







Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 277 


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۷﴾


بیشک جو لوگ ایمان کے ساتھ ( سنت کے مطابق ) نیک کام کرتے ہیں نمازوں کو قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب تعالٰی کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے ، نہ اداسی اور غم ۔ 








Surat No 3 : سورة آل عمران - Ayat No 110 


کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾


تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو ، اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو ، اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا ، ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں ۔ 




Allah maal me tarakki karega khoob maal dega 


Surat No 71 : سورة نوح - Ayat No 10 


فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾


اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ ( اور معافی مانگو ) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے ۔ 





Surat No 71 : سورة نوح - Ayat No 11 


یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾


وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا ۔ 





Surat No 71 : سورة نوح - Ayat No 12 


وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾


اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا ۔ 







Logo ke gunha ki wajah se dunya me musibate ATI he pareshaniyan ATI he dange hote he kushki or tari me fasad barpa hota he 


Surat No 30 : سورة الروم - Ayat No 41 


ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾


خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا ۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالٰی چکھا دے ( بہت ) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں ۔ 






Hamari madad tab hogi jab ham Allah ke hukm ki tabedari karenge


Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 54 


وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۵۴﴾


تم ( سب ) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے ۔ 







Agar ham Allah ka kehna nahi manege to Allah ka azab ayega Allah ki madad nahi ayegi 


Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 55 


وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾


اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارےپروردگارکی طرف سے نازل کی گئی ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو ۔ 






Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 56 


اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾


۔ ( ایسا نہ ہو کہ ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالٰی کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا ۔ 




Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 57 


اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰىنِیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾


یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا ۔ 







Parhezgar log dunya me bhi kamyab or akhirat me bhi kamyab

Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 61 


وَ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِہِمۡ ۫ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوۡٓءُ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۱﴾


اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالٰی ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا ، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہو نگے ۔ 





Nabi saw ne kaha a ladke 

Allah ke ahkam ki hifazat to Allah tumhari hifazat karega yani Allah hamari madad karega Allah ki madad hame milegi

 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ،‏‏‏‏ الْمَعْنَى وَاحِدٌ،‏‏‏‏ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.




 میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 


Sunan Tirmizi#2516

کتاب: احوال قیامت ، رقت قلب اور ورع


Status: صحیح





Nabi saw ne farmaya bidat na karo jo nabi saw ne nahi bataya use na karo ummato ki halaqat barabadi is wajha se he ki unhone ambiya se ikhtilaf kiya Allah ki madad nahi ati ase logo par 


🍂🍃ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ🍂🍃


🌺रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: जो चीज़ मैंने तुम्हें ना बताई हो उसे यूँही रहने दो, इसलिए कि तुमसे पहले की उम्मतें ज़्यादा सवाल और अपने अंबिया से इख्तिलाफ़ की वजह से हलाक हुईं, लिहाज़ा जब मैं तुम्हें किसी चीज़ का हुक्म दूं तो ताक़त भर उस पर अमल करो, और जब किसी चीज़ से मना कर दूं तो उस से रुक जाओ।


📚 _*Sunan ibne majah: jild 1, kitab Al sunnah 1, hadith no. 2*_

*Grade Sahih*







Jisne Allah ke liye muhabbat ki or Allah ke liye diya or Allah ke liye liya or har kaam Allah ke liye kiya to isne apna imaan mukammal kar liya 


حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ . 


  حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اللہ کی خاطر محبت کی ، اللہ کی خاطر غصہ کیا ، اللہ کے لیے دیا ، اور اللہ کی رضا مندی کے پیش نظر نہ دیا تو اس نے ایمان کو کامل کر لیا ۔‘‘  


Sunan Abu Dawood#4681

سنتوں کا بیان


Status: صحیح





Na tum susti Karo na tum gamgeen ho tum ho galib rahoge agar tum iman Wale ho imandaar ho

Surat No 3 : سورة آل عمران - Ayat No 139 


وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾


تم نہ سُستی کرو اور نہ غمگین ہو ، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو ۔ 








Momino ki madad dunya me bhi or akhirat me bhi hogi

Surat No 40 : سورة مومن - Ayat No 51 


اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾


 یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہونگے ۔  










Rafupyaden mansookh nahi he

 رفع الیدین منسوخ کے تمام رویات باطل ہیں یہ حدیث اس بات پر حجت ہے👇👇👇👇👇👇


حدیث ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حدیث عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ

امام بیھقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

(۲۵۱۹) أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الزاهد إملاء من أصل كتابه قال: قال أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي: " صليت خلف أبي النعمان محمد بن الفضل فرفع يديه حين افتتح الصلاة وحين ركع وحين رفع رأسه من الركوع "، فسألته عن ذلك، فقال: " صليت خلف حماد بن زيد فرفع يديه حين افتتح الصلاة وحين ركع وحين رفع رأسه من الركوع " فسألته عن ذلك، فقال: " صليت خلف أيوب السختياني فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع "، فسألته، فقال: " رأيت عطاء بن أبي رباح يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع "، فسألته، فقال: " صليت خلف عبد الله بن الزبير، فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع "، فسألته، فقال عبد الله بن الزبير ": صليت خلف أبي بكر الصديق رضي الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع " وقال أبو بكر: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، " فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع " رواته ثقات

(٢٥١٩) ابواسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نعمان محمد بن فضل کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کیا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے حماد بن زید کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیا تو میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بھی نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ بھی جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو عبداللہ بن زبیر (رض) نے فرمایا : میں نے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ بھی نماز کے شروع میں اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے۔ (امام بیھقی فرماتے ہیں کہ) اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ہیں۔

[ سنن کبری للبیہقی جلد دوم صفحہ 107 حدیث 2519]

یہ حدیث مسلسل بالکل صحیح ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ اور سند بھی صحیح ہے

یہ حدیث اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا۔ کیوں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آخری نمازیں بھی پڑھی ہیں۔ تو اس سلسلے میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے سب زیادہ با خبر تھے اور پھر حدیث بھی بیان کی اور پھر رفع الیدین والی حدیث پر سیدنا ابو بکر صدیق کا عمل بھی تھا اور پھر اسی پر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا عمل تھا اور اسی حدیث مسلسل میں تابعی، تب تابع کا بھی عمل ہے۔

اگر رفع الیدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا ہوتا تو ابو بکر صدیق چھوڑ دیتے، ابو بکر رض نے چھوڑا ہوتا تو ابن زبیر رض چھوڑ دیتے۔ لیکن پتا کیا چلا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رفع الیدین پر عمل کیا وہ عامل رہے اس رفع الیدین پر، یعنی رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رفع الیدین منسوخ ہو گیا یہ حدیث ان کے دعوی کو باطل ثابت کرتی ہے

اس حدیث کی تحقیق:

سنن کبری للبیہقی جلد دوم صفحہ 107 حدیث 2519 میں نماز میں رفع الیدین کا تسلسل اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل منقول ہے۔ اس روایت کا متن یہ ہے کہ ابو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي نے فرمایا کہ میں نے ابو النعمان محمد بن الفضل کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے حماد بن زيد، انہوں نے أيوب السختياني، انہوں نے عطاء بن أبي رباح، انہوں نے عبد الله بن الزبير، اور انہوں نے سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا۔ روایت کی تفصیلاتراویِ اول: ابو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي اساتذہ کا تسلسل: ابو النعمان ← حماد بن زيد ← أيوب السختياني ← عطاء ← عبد الله بن الزبير ← ابوبکر الصدیق موضوع: رفع الیدین عند الرکوع اور رفع الرأس منہ (رکوع جاتے اور اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانا)


ابو فرقان محمد


فقیہ بابا



Wednesday, 8 January 2025

ORTON KA EID GAH JANA KESA HE

 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ خَطَبَ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ ، قُلْتُ : أَتُرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ ، قَالَ : إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَهُ .

نبی کریم ﷺ نے عیدالفطر کی نماز پڑھی ۔ پہلے آپ نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا ۔ جب آپ خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے اور عورتوں کی طرف آئے ۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی ۔ آپ ﷺ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں ۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں ۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے ۔
صحیح بخاری#978
کتاب عیدین کے مسائل کے بیان میں

Sunday, 5 January 2025

AAO US BAAT KI TARAF JO HAM TUM ME YAKSA HE

 Assalamualaikum wa rehmatullahi wa Barakatuhu

Bismillahhirrahmanirrahim
Kah do Eh Ahl-e-kitab ek baat ki taraf aa jao jo hamare aur tumhare darmiyan barabar hai ki ALLAH ke siwa kisi aur ki bandagi na kare
-----------------------
✦Kah do Eh Ahl-e-kitab ek baat ki taraf aa jao jo hamare aur tumhare darmiyan barabar hai ki ALLAH ke siwa kisi aur ki bandagi na kare aur uske saath kisi ko sharik na banaye aur ALLAH ke siwaye koi kisi ko RAB na banaye iske baad bhi agar wo phir jaye to kah do gawah raho ki hum to farmabardar hone wale hai
AL Quran,Surah Aal-e-Imran(3),64
-----------------------
✦कह दो ऐ अहल-ए-किताब एक बात की तरफ आ जाओ जो हमारे और तुम्हारे दरम्यान बराबर है कि अल्लाह के सिवा किसी और की बन्दगी ना करे और उसके साथ किसी को शरीक ना बनाये और अल्लाह के सिवा कोइ किसी को रब ना बनाये इसके बाद भी अगर वो फिर जाए तो कह दो गवाह रहो की हम तो फरमानबरदार होने वाले है
सुरह अल इमरान(3),आयत-64
-----------------------
کہہ اے اہلِ کتاب! ایک بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ سوائے الله کے اور کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور سوائے الله کے کوئی کسی کو رب نہ بنائے پس اگر وہپھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہونے والے ہیں-
سورة آل عمران(3)-64
-----------------------
✦Say O people of the Scripture (Jews and Christians): Come to a word that is just between us and you, that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him, and that none of us shall take others as lords besides Allah . Then, if they turn away, say:"Bear witness that we are Muslims."
Al Quran,Surah Aal-e-Imran(3),64
--------------------------

nek sathi or bura sathi ki misal

 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ ، وَكِيرِ الْحَدَّادِ ، لَا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ ، إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ ، أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً .

رسول کریم ﷺ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے ۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے ۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے ۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے ۔
صحیح بخاری#2101
کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

Saturday, 4 January 2025

Hamara naam ehlehadees kiyon

 Beshak... Allah ne hamara naam muslim rakha..Aur ham muslman hai...Aur hame naaz hai iss naam pr... Alhamdulillah

Pr sawal uthta hai konse muslman..?

Wo jo apna sina thokte hai..

Wo jo kabro pr apna sar jhukate hai..

Wo jo taqleed ko wazib hone ka  certificate  baant rahe hai..

Ya wo jo ye kahte hai ki aap sallalaho alaihi wasallam ke baad ek nabi aur hai... nauzubillah

..aap sallalaho alaihi wasallam ke waqt tak koi firqa nahi tha...sab Allah ki kitab aur aap sallalaho alaihi wasallam ki sunato pr amalpaira the..

Lekin jab baad me ahle bidaat ne dastak di to inse apne aap ko alag rakhne aur haq wala hone ki pahchaan ke liye ek naam aaya Ahle sunnat wal jamaat..

Aur iss beech bhi Kai batil firqo ne janm liya ...lekin mante the muslman...

Kahne ka maqsad sirf itna hi hai.. apne aap ko kisi sifati naam se mansoob karna koi galat nahi hai..apni pahchaan ke liye...

Friday, 9 August 2024

Sine par hath bandhna

 

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ .

  جناب طاؤس ( بن کیسان یمانی ، تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے دوران میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے سینے پر باندھا کرتے تھے ۔ 

Sunan Abu Dawood#759
نماز کے احکام و مسائل

Status: صحیح

Maal jama karna

 

Surat No 57 : سورة الحديد - Ayat No 20

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ  الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ  وَّ تَفَاخُرٌۢ  بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ  ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ  یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ  عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ  الدُّنۡیَاۤ   اِلَّا مَتَاعُ  الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾

خوب جان رکھو کہ  دنیا  کی زندگی صرف کھیل تماشا  زینت  اور آپس میں فخر ( و غرور ) اور  مال  واولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو  زیادہ  بتلانا ہے جیسے  بارش  اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ  خشک  ہو جاتی ہے تو زرد  رنگ  میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہوجاتی ہے اور  آخرت  میں  سخت   عذاب  اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور  دنیا  کی زندگی بجز دھوکے کے  سامان  کے اور کچھ بھی تو نہیں ۔


Surat No 4 : سورة النساء - Ayat No 32

وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾

اور اس چیز کی  آرزو  نہ کرو جس کے باعث اللہ تعالٰی نے تم میں سے بعض کو بعض پر بُزرگی دی ہے ۔ مردوں کا اس میں سے حصّہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان میں سے حصّہ ہے جو انہوں نے کمایا ، اور اللہ تعالٰی سے اس کا فضل مانگو ، یقیناً اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے ۔

Surat No 89 : سورة الفجر - Ayat No 20

وَّ  تُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿ؕ۲۰﴾

اور  مال  کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو ۔


Quran kareem me pichle ambiya ka zikr

 

➖️➖️➖️➖️➖️➖️
🌿🌿🌿🌿🌿
_*بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ(شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والاہے)*_
🌿🌿🌿🌿🌿
➖➖➖➖➖➖

🟥 _*Quran e Kareem me pichle Ambiya ka zikr*_

➖️➖️➖️➖️➖️➖️

✳️(1)Adam (عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--22,30-39,
Al Imran(3)--59,
Al Nisaa(4)--1,
AL Maidah(5)--27-31,
Al Anaam(6)--99,
Aeraf(7)--11-27,172,189-190,
Hijr(15)--26-44
Bani israeel(17)--61-65,
Al kahf(18)--50,
Taha(20)--21,55,115-126,
Al Ambiya(21)--37,
Al Mominun(23),12-13,
Saad(38)--67-68,71-72,
Al Hujurat(49)--13,
Al Rahman(55)--14,
----------
✳️(2)Idrees(عليه السلام)
----------
Maryam(19)--56-57,
Ambiya(21)--85,
----------
✳️(3)Nooh(عليه السلام)
---‌-------
Al Nisaa(4)--163-165,
Al Anaam(6)--83-87,
Aeraf(7)--59-65,
Taubah(9)--70,
Unus(10)--71-74,
Hud(11)--25-49,83,
Ibraheem(14)--9,
Bani israeel(17)--2-8,17,
Maryam(19)--74,
Al Ambiya(21)--76-77,
Mominoon(23)--22-43,
Furqan(25)--37-38,
Al shuara(26)--105-122,
Al Anqaboot(29)--14-15,
Al Ahzab(33)--7,
Assaffat(37)--75-82,
Saad(38)--12-14,
Gafir(Momin)(40)--5-6,
Al Shoora(42)--13,
Al Zukhruf(43)--12-14,
Qaf(50)--12-14,
Al Zariyat(51)--46,
Al najm(53)--50-54,
Qamar(54)--9-17,
Al Hadeed(57)--26,
Tahreem(66)--10-15,
Al Haqqah(69)--11-12,
Nooh(71)--1-28,
----------
✳️(4)Hood(عليه السلام)(qaum e aad ke nabi)
----------
Al Anaam(6)--80-83,
Aeraf(7)--65-75,
Hood(11)--50-60,
Mominoon(23)--31-41,
Al Shuara(26)--123-140,
Yaaeen(36)--21-22,
Fussilat(Ham mim sajdah)(41)--15-16,
Al Ahqaf(46)--21-28,
Al Zariyat(51)--41-42,
Al najm(53)--50-55,
Al qamar(54)--18-22,
Al Haqqah(69)--6-8,
Al Fajr(89)--6-16,
----------
✳️(5)Saleh(عليه السلام)(qaum samud me aye)
----------
Al Aeraf(7)--73-79,
Hood(11)--61-68,
Ibraheem(14)--8-9,
Hijr(15)--80-84,
Bani israeel(17)--59,
Al Shuara(26)--141-159,
Al Naml(27)--45-53,
Fussilat(Ham mim sajdah)(41)--17-18,
Al Zariyat(51)--43-45,
Al Qamar(54)--22-32,
Al Shams(91)--11-15,
----------
Qaum e Aad wa Samood
----------
Al Mominun(23)--31-43,
Furqan(25)--30-39,
Al Anqaboot(29)--38,
Al najm(53)--50-54,
Ham mim sajdah(fussilat)(41)--13-18,
Al Haqqah(69)--4-10,
Al Fajr(89)--6-14,
----------
✳️(6)Ibraheem(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--124-141,258,260,
Aal Imran(3)--65-68,96-97,173,
Al Nisaa(4)--54-55,125,
Al Anaam(6)--74-91,161-163,
Tubah(9)--113-114,
Hood(11)--69-76,
Ibraheem(14)--35-41,
Al hijr(15)--50-60,
Al nahl(16)--120-124,
Maryam(19)--31-50,
Al Ambiya(21)--51-73,
Al Hajj(22)--26-33,
Al Shuara(26)--68-104,
Al Qasas(28)--57,
Al Anqabut(29)--16-77,67,
Al Ahzab(33)--7,
Assaffaat(37)--83-113,
Shoora(42)--13,
Zukhruf(43)--22,26-28,
Al Zariyat(51)--24-37,
Al Najm(53)--37-38,
Al Hadeed(57)--26,
Mumtahinnah(60)--4-5,
----------
✳️(7)Loot(عليه السلام)
----------
Al Aeraaf(7)--80-84,
Hood(11)--69-83,
Al Hijr(15)--51-77,
Al Ambiya(21)--74-75,
Al Furqan(25)--40,
Al Shuara(26)--160-175,
Al Naml(27)--54-58,
Al Anqaboot(29)--28-35,
Assaffat(37)--133-138,
Al Zariyat(51)--31-37,
Al najm(53)--53-55,
Al Qamar(54)--33-40,
Al Tahreem(66)--12-15,
----------
✳️(8)Shuaeb(عليه السلام)
----------
Al Aeraf(7)--85-96,
Hood(11)--84-95,
Hijr(15)--78-79,
Al shuara(26)--176-191,
Al qasas(28)--3-45,
Al Anqaboot(29)--36-37,
----------
✳️(9)Ismaeel(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--136,140,
Al nisaa(4)--163,
Maryam(19)--54-55,
Al Ambiya(21)--85-86,
Assaffat(37)--101-102,
Sad(38)--45-48,
----------
✳️(10,11)ishaq(عليه السلام) wa yaqub(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--133,
Aal Imran(3)--93,
Bani israeel(17)--16-17,
Assaffat(37)--112-113,
----------
✳️(12)Usuf(عليه السلام)
----------
Usuf(12)--4-102,
Gafir(Momin)(40)-34
----------
✳️(13)Ayyub(عليه السلام)
----------
Al Nisa(4)--163,
Al Ambiya(21)--83-84,
Sad(38)--41-44,
----------
✳️(14)zulqifl(عليه السلام)
----------
Al Ambiya(21)--85-86,
Sad(38)--45-48,
----------
✳️(15)yunus(عليه السلام)
----------
Unus(10)--98,
Al Ambiya(21)--87-88,
Assaffat(37)--39-148,
Qalam(68)--48-50,
----------
✳️(16,17)Moosa(عليه السلام) wa Haroon(عليه السلام)
----------
Al-Baqrah(2)--7-9,40-73,83-87,101,108,259,
Aal Imran(3)--2-4,23-25,64,99,109,
Al nisaa(4)--44-47,164
Al Maidah(5)--12-16,20-32,44-48,
Al Anaam(6)--91-92,103,151-155,
Al aeraf(7)--116-171,
Unus(10)--75-92,
hood(11)--96-99,
Ibraheem(14)--5-8,
Al nahl(16)--125,
Bani israeel(17)--2-8,101-104,
Al Kahf(18)--60-82,
Maryam(19)--51-53,
Taha(20)--9-98,
Al Ambiya(21)--48-50,
Mominoon(23)--45-59,
Al Shuara(26)--10-68,
Al Naml(27)--7-12,
Qasas(28)--1-46,76-83,
Al Anqabut(29)--39-46,
Al Ahzab(33)--69,
Al Saffat(37)--114-122,
Momin(Gafir)(40)--23-46
Zukhruf(43)--46-56,
Al Dukhan(44)--17-33,
Al Ahqaf(46)--30
Al Zariyat(51)--28-40,
Al Naziyat(79)--19-26,
Aala(87)--18-19,
----------
Gausala parasti
----------
Al Baqrah(2)--49-73,92-93
Al Nisaa(4)--153-158,
Al Aeraf(7)--100-156,
----------
✳️(18)Khizr(عليه السلام)
----------
Al Kahf(18)--60-82,
----------
✳️(19)Yushe(عليه السلام)
----------
Al Kahf(18)--60-62,
----------
✳️(20)Uzair(عليه السلام)
----------
Al Baqarah(2)--259,
----------
✳️(21,22)Zakariya(عليه السلام) aur Yahya(عليه السلام)
----------
Al Anaam(6)--85,
Aal Imran(3)--37-41,
Hood(11)--72-73,
Al Hijr(15)--54,
Maryam(19)--1-15,
Al Ambiya(21)--89-90,
----------
✳️(23)Ilyas(عليه السلام)
----------
Assaffat(37)--123-132,
----------
✳️(24)Hazqeel(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--243,
----------
✳️(25)Yasa'a(عليه السلام)
---------
Al Anaam(6)--86,
Sad(38)--45-48,
----------
✳️(26)Shamveel(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--246-251,
----------
✳️(27)Dawood(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--246-251,
Al nisaa(4)--163,
Bani israeel(17)--55,
Al Ambiya(21)--79-80,
Saba(34)--10-13,
Sad(38)--17-26,
----------
✳️(28)Sulaiman(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--101-102,
Al Ambiya(21)--78-82,
An Naml(27)--15-44,
Saba(34)--12-21,
Sad(38)--30-40,
----------
✳️(29)Eisa(عليه السلام)
----------
Al Baqrah(2)--116,253,
Aal imran(3)--33-60,
Al Nisaa(4)--154-162,171-173,
Al Maidah(5)--72-75,110-118
Al Anaam(6)--100-103,
Al Aeraf(7)--157,
Al Anfaal(8)--62-63,
Taubah(9)--30-32,
Unus(10)--68-70,
Bani israeel(17)--111,
Al kahaf(18)--1-5,
Maryam(19)--16-37,88-95,
Al Ambiya(21)--26-29,91,
Mominoon(23)--50-53,
Assaffat(37)--149-160,
Al Zumar(39)--4,
Shoora(42)--13,
Al Zukhruf(43)--19,57-65,81-82,
Al Hadeed(57)--27,
Saf(61)--6-8,14
Al Tahreem(66)--12,
----------
🌅 _*Dosare logon ka zikr*_
----------
🏀(1)Maryam(عليه السلام)
---------
Aal imran(3)--35-37,
Maryam(19)--16-21,
Al Ambiya(21)--81-94,
Al Tahreem(66)--12,
----------
🏀(2)Lukman(عليه السلام)(yeh Nabi nahi the balki Allah ke nek bande the)
----------
Surah Lukman(31)--12-19,
----------
🏀(3)Zulqarnain(عليه السلام)(yeh Faras ka azeem hukmran jise yoonani "Sairas" kahte hain)
----------
Surah kahaf(18)--83-101,
----------
🏀(4)Ashab e Kahf
----------
Surah kahf(18)--9-26,
----------
🏀(5)Ashabul Ukhdood
----------
Al Burooj( 85)--4,
Sahih muslim 3005(7511),
Jamea Tirmizi 3340,
----------
🏀(6)Ek Momin ka waqya(Firaun ke khandan ka shakhs)
----------
Momin(Gafir)(40)--23-46
----------
🏀(7)Ashabur rass(qaum samood ki ek basti ke rihayashi)
----------
Al Furqan(25)--38-39,
Qaaf(50)--12-14,
----------
🏀(8)Ashabul qaryah
-------‌---
Yaaseen(36)--13-29,
----------
🏀(9)Bag walon ka qissah
----------
Al kahaf(18)--32-43,
Al Qalam(68)--17-33,
----------
🏀(10)Yajuj-Majooj
----------
Al Kahf(18)--94,
Al Ambiya(21)--95-97,
----------
🏀(11)Saamari jadugar
----------
Al Baqrah(2)--49-73,92-93,
Al Nisaa(4)--153-158,
Al Aeraf(7)--100-156,
Taha(20)--9-98,
----------
🏀(12)qaroon,Firaun,Hamaan
----------
Unus(10)--75-93,
Hood(11)--96-100,
Al Qasas(28)--76-82,
Al Anqaboot(29)--39-40,
Zumar(39)--50,
Momin(Gafir)(40)--23-46,
Al Tahreem(66)--10-12,
Burooj(85)--17-23,
----------
🏀(13)Haabeel-Qaabeel
---------
Maidah(5)--26-32,
----------
🏀(14)Farishte
----------
✴️Al Baqrah(2)--101-102(Haroot Maaroot)
✴️Momin(Gafir)(40)--7-9(Duwa karne wale Farishte)
✴️Al Ahzab(33)--56(Muhammad صلى الله عليه وسلم)par salaam bhejne wale Farishte
✴️Al Anaam(6)--60(Neend ke Farishte)
✴️Al Ahzab(33)--43-44(Mominon par rahmat bhejne wale Farishte)
✴️Al hijr(15)--6-8(Azab wale Farishte)
✴️Fatir(35)--9,Aeraf(7)--57(Baadal ko hankne wale Farishte)
✴️Taha(20)--108(Soor foonkne wale Farishte)
✴️Al Raad(13)--11(Hifazat karne wale Farishte)
✴️Al Anaam(6)--6,Al Sajdah(32)--11,waqya(56)--83-87(Maut ka Farishtah)
✴️Momin(Gafir)(40)--7(Arsh uthane wale Farishte)
✴️Yunus(10)--21,Al Zukhruf(43)--80,qaaf(50)--17-18,Al infitaar(82)--11(Aamal likhne wale Farishte)
✴️Al Baqrah(2)--97-98,Bani israeel(17)--1-6,Al Najm(53)--1-18,Al Tahreem(66)--4,Al Haqqah(69)--38-47,Al Qadr(97)--1-5,Jibraeel(عليه السلام) wa Meekaeel(عليه السلام)

➖️➖️➖️➖️➖️➖️
🌿🌿🌿🌿🌿
🌿🌿🌿🌿🌿
➖️➖️➖️➖️➖️➖️

Monday, 29 July 2019

imam ki qirat kafi hadees ki haqiqat


Assalamu alaykum wa rehmatullahi wa barkatuhu.

Bismillahirrahmanirraheem.

Muqtadi ke liye imaam ki Qira'at

بــسـم الله الــرّحــمــن الــرّحــيــم

Tehreer : Shaikhul Hadees Allama Ghulaam Mustafa Zaheer Amanpoori Hafizahullah

*Riwayath :
مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ
" Jo imaam ki iqtida me ho , tho imaam ki Qira'at muqtadi ke liye kaafi hai " ki Boht saari Sanadein hai , Sab Zaeef hai :

Sayyiduna Abu Saeed Khudri raziallahu anhu
( Al Kaamil fee Zuafaa li ibn Adee : 1/524 - Al Mojam al Awsat li Tabrani : 7579 )

Sanad Sakht Zaeef hai
Haafiz Baihaqi rahimahullah ne isey " Zaeef " Qaraar diya hai .
(Al khilaafiyaath lil Baihaqi : 2/462)

imaam Haakim rahimahullah farmatey hain :
" iss riwayat ki Sanad aur Matan mahalle nazar hai ".
(Al khilaafiyaath lil Baihaqi : 2/462)

A. Amaarah bin Joeen Abu Haroon
" Matrook wa Kazzab hai ".
B. imaam Abu Nazrah rahimahullah bayan kartey hain :
حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنِ " الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ
" maine Syedna Abu Saeed Khudri raziallahu anhu se poocha ke kya muqtadi imaam ke peeche Qirat karega ? farmaya : Surah fatiha pardega ".
( Al Qirat Khalful imaam lil bukhari :27 , Al Qirat lil Baihaqi : 224 , wa sanadahu Hasan ).

Friday, 25 January 2019

muslim name kiyon nahi


Beshak... Allah ne hamara naam muslim rakha..Aur ham muslman hai...Aur hame naaz hai iss naam pr... Alhamdulillah
Pr sawal uthta hai konse muslman..?
Wo jo apna sina thokte hai..
Wo jo kabro pr apna sar jhukate hai..
Wo jo taqleed ko wazib hone ka  certificate  baant rahe hai..
Ya wo jo ye kahte hai ki aap sallalaho alaihi wasallam ke baad ek nabi aur hai... nauzubillah
..aap sallalaho alaihi wasallam ke waqt tak koi firqa nahi tha...sab Allah ki kitab aur aap sallalaho alaihi wasallam ki sunato pr amalpaira the..
Lekin jab baad me ahle bidaat ne dastak di to inse apne aap ko alag rakhne aur haq wala hone ki pahchaan ke liye ek naam aaya Ahle sunnat wal jamaat..
Aur iss beech bhi Kai batil firqo ne janm liya ...lekin mante the muslman...
Kahne ka maqsad sirf itna hi hai.. apne aap ko kisi sifati naam se mansoob karna koi galat nahi hai..apni pahchaan ke liye...

Tuesday, 16 January 2018

حنفی مذہب فقہ کی جائز نماز کا نقشہ


🌹 حنفی مذہب فقہ کی جائز نماز کا نقشہ ! 🌹

👈🏻 جانور سے ، مردے سے ،چھوٹی لڑکی وغیرہ سے وطی کرکے بغیر انزال کے بے غسل آجائے نماز جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۳۱،۳۲)

👈🏻 اسی طرح عورت بھی کسی جانور سے صحبت کرائے یا مردے سے تو اس پر بھی نہ غسل واجب ہے نہ وضونہ اپنی شرمگاہ دھونا ۔

 (مراقی الفلاح ۔ حاشیہ الطحاوی علیٰ مراقی الفلاح ص ۵۳)

👈🏻 کپڑے پر، بدن پر،عورت کی فرج کی رطوبت لگی تو کوئی حرج نہیں ۔

 ( در مختار ج،۱ ص۳۲)

 👈🏻 بچے کی ولادت کے وقت کی چکنائی لگی ہو تو کوئی حرج نہیں
( درالمختار ج،۱ ص ۵۶۴)

 👈🏻 جانور کے بچے کی یہ رطوبت ہو تو کوئی حرج نہیں ۔

( در المختار ج،۱ص۵۶۴)

👈🏻 کتے کی کھال، سور کی کھال اور جس درندے کی چاہے رنگی ہوئی کھال پہن لے اوڑھ لے جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۳۸)

 👈🏻 رنگی ہوئی نہ ہو تو بھی جائز ہے ۔

( در مختار ج،۲ ص۲۳۰)

 👈🏻 ذبح کئے ہوئے سور اور ذبح کئے ہوئے کتے کی کھال کی جا نمازپر نماز جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۲۳۰)

👈🏻 ان کی کھال کا لباس پہن کر بھی نماز جائز ہے ۔

(مراقی الفلاح ج ۱ ص۹۰، طحاوی ج۱ ص۹۷)

👈🏻 کتے کا ، سور کا ،اور جس ذبح کئے ہوئے درندے کا چاہے گوشت اپنی جیبوں میں رکھ لے نماز جائز ہے ۔

(در مختار ج،۱ ص ۳۸، فتاوی عالمگیری ج۱ ، ص ۱۵)

👈🏻 کتے سور ، اور جس درندے کی ہڈیوں کا چاہے ہارپہن لے نماز پڑھے جائز ہے ۔

( ردالمختار ج،۱ ص ۳۵۷، فتاوی عالمگیری ج ۱ ص ۳۹)

👈🏻 کتے سور ، اور جس درندے کی ہڈیوں کا چاہے ہارپہن لے نماز پڑھے جائز ہے ۔

( ردالمختار ج،۱ ص ۳۵۷، فتاوی عالمگیری ج ۱ ص ۳۹)

👈🏻 کتے کا ، سور کا ،اور جس ذبح کئے ہوئے درندے کا چاہے گوشت اپنی جیبوں میں رکھ لے نماز جائز ہے ۔

(در مختار ج،۱ ص ۳۸، فتاوی عالمگیری ج۱ ، ص ۱۵)

👈🏻 ان کی کھال کا لباس پہن کر بھی نماز جائز ہے ۔

(مراقی الفلاح ج ۱ ص۹۰، طحاوی ج۱ ص۹۷)

👈🏻 ذبح کئے ہوئے سور اور ذبح کئے ہوئے کتے کی کھال کی جا نمازپر نماز جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۲۳۰)

👈🏻 کتے کی کھال، سور کی کھال اور جس درندے کی چاہے رنگی ہوئی کھال پہن لے اوڑھ لے جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۳۸)

👈🏻 جانور کے بچے کی یہ رطوبت ہو تو کوئی حرج نہیں ۔

( در المختار ج،۱ص۵۶۴)

👈🏻 بچے کی ولادت کے وقت کی چکنائی لگی ہو تو کوئی حرج نہیں
( درالمختار ج،۱ ص ۵۶۴)

👈🏻 کپڑے پر، بدن پر،عورت کی فرج کی رطوبت لگی تو کوئی حرج نہیں ۔

 ( در مختار ج،۱ ص۳۲)

👈🏻 اسی طرح عورت بھی کسی جانور سے صحبت کرائے یا مردے سے تو اس پر بھی نہ غسل واجب ہے نہ وضونہ اپنی شرمگاہ دھونا ۔

 (مراقی الفلاح ۔ حاشیہ الطحاوی علیٰ مراقی الفلاح ص ۵۳)

👈🏻 جانور سے ، مردے سے ،چھوٹی لڑکی وغیرہ سے وطی کرکے بغیر انزال کے بے غسل آجائے نماز جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۳۱،۳۲)

👈🏻 کتے کی اسی کھال کی ڈول میں پانی بھر کر اس پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لے جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص۳۸)

👈🏻 ذبح کئے ہوئے سانپ اور چوہے کا گوشت لے کر بھی نماز پڑھ لے جائز ہے ۔

( ردالمختار ج،۱ ص ۳۵۸)

👈🏻 کتے کے پلے کو بغل میں دبا کرنماز پڑھ لے جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص ۳۹)
👈🏻 بڑے کتے کو سر پر چڑھاکر نماز پڑھ لے جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ص۲۹،۳۸)

👈🏻 جس پانی میں کتا پڑ گیا ہو ، اگر اس کا منہ اس میں نہ لگا ہو تو اس پانی سے وضو کرلے اور غسل بھی نماز جائز ہے ۔

( در مختار ج،۱ ص ۳۸)

👈🏻 نماز پڑھتے ہوئے نجس چڑیا سر پر بیٹھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
 (ردالمختار شرح در مختار ج،۱ ص۳۶۳)

👈🏻 نجاست آلود کپڑوں والا بچہ گود میں بیٹھا ہو تو حرج نہیں نماز جائز ہے ۔

(رد المختار ج ۱، ص ۳۶۳، فتاویٰ ظہیریہ )    مولانا عبدالواحد گجرات  جب تک  زيندا هون ان حوالون کا زمه دارهون

NABI SAW KI WAFAT


ے ساتھ ۹؍ربیع الاول ۱ ؁عام الفیل کو آپ کا یوم پیدائش ہوناذکر کیاہے.
▪جیساکہ علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:چمنستان دہرمیں بارہا روح پرور بہاریں آچکی ہیں، چرخ نادرۂ کارنے کبھی کبھی بزم عالم میں اس سروسامان سے سجائی کہ نگاہیں خیرہ ہوگئیں لیکن آج (یعنی ۹؍ربیع الأول) کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظارمیں پیرکہن سال سردمہر نے کروڑوں برس صرف کردیئے.........یعنی یتیم عبداللہ ،جگرگوشۂ آمنہ ،شاہ حرم، حکمران عرب، فرمانروائے عالم، شاہ کونین عالم قدس سے عالم امکان میں تشریف فرمائے عزت واجلال ہوئے‘‘ ۔
(سیرت النبیﷺ ۱؍۱۷۰،۱۷۱)

▪مولانا اکبرشاہ خاں نجیب آبادی اپنی کتاب ’’تاریخ اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں ’’۹؍ربیع الأول عام الفیل ۴۰جلوس کسری نوشیرواں مطابق ۲۲؍اپریل ۵۷۱ء بروز دوشنبہ بعدازصبح صادق اورقبل ازطلوع آفتاب آنحضرتﷺ پیداہوئے‘‘۔ (تاریخ اسلام ۱؍۷۶)
▪علامہ قاضی محمدسلیمان سلمان منصورپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں’’ہمارے نبیﷺ موسم بہارمیں دوشنبہ کے دن۹؍ربیع الأول عام الفیل مطابق۲۲؍اپریل ۵۷۱ھ ؁ مطابق یکم جیٹھ ۶۲۶ ؁ بکر می کومکہ معظمہ میں بعداز صبح صادق وقبل ازنیرّ عالم تاب پیداہوئے۔
(رحمۃ للعالمین ص:۴۰)
▪مولاناصفی الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:’’رسول اللہﷺ مکہ میں شعب بنی ہاشم کے اندر۹؍ربیع الأول ۱ ؁ عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت پیداہوئے‘‘۔
(الرحیق المختوم:ص:۸۳)
▪مصرکے نامور ماہرفلکیات اور مشہور ومعروف ہیئت داں محمود پاشا فلکی نے بھی یہ تحقیق پیش کی ہے کہ آپ ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش ۹؍ربیع الأول ہی آتا ہے ۔
(بحوالہ سیرت النبیﷺ ۱؍۱۷۱،۱۷۲)
▪امام سہیلی نے نقل کیا ہے کہ ’’ہاتھی ماہ محرم میں آیا تھا اور آپﷺ اس واقعہ کے پچاس دن بعد پیداہوئے تھے، جب کہ عام امام سہیلی اورمحمد بن اسحاق کے بقول جمہور اہل علم کامشہور مسلک یہی ہے ‘‘۔
(سیرت ابن ہشام اردو۱؍۱۸۲وسبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیرالعباد۱؍۳۳۶)
▪اسی طرح بعض سیرت نگاروں نے ۲؍ربیع الأول ،کسی نے آٹھ، کسی نے بارہ کسی نے سترہ اورکسی نے اٹھارہ اوربعض نے بائیس ربیع الأول کہا‘‘۔
(البدایۃ والنہایۃ۲؍۲۶۰)
متذکرہ بالااقوال سے معلوم ہواکہ ۹؍ربیع الأول ہی آپﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش ہے ۔

عیدمیلادالنبیﷺ کا موجد وزمانہ ایجاد:۔
▪عیدمیلادالنبیﷺ کوساتویں صدی ہجری ۶۲۵ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی اورموصل کے قریبی شہراربل کے گورنر ملک مظفر ابوسعید کو کبری نے رواج دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ ۱۳؍۱۳۷،الحاوی للسیوطی۱؍۱۸۹، ومسئلہ میلاد اسلام کی نظرمیں ص:۵۵)
▪اسی طرح فتاوی حافظ ابوالخیر سنحاوی میں ہے ’’مولد شریف کاذکرقرون ثلاثہ مفضلہ میں سلف میں سے کسی سے منقول نہیں یہ بعدکی ایجاد ہے۔
(بحوالہ ماہ ربیع الأول اورحب نبوی کے تقاضے ص:۲۵)
▪حافظ ابن حجر نے بھی اسی طرح لکھا ہے:تواریخ اورمجوزین مولد کے رسائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ۶۰۴ھ ؁ میں مولودایجاد ہوا، اورشہر موصل میں ایک مجہول الحال شخص شیخ عمربن محمد ملانے ایجادکیا اورصاحب اربل (سلطان مظفر ابوسعید) کوکبرینے اس کی اقتداء کی۔
( سیرت شامی بحوالہ ماہ ربیع الأول اورحب نبوی کے تقاضے ص:۲۶)
▪شامی کی تحریر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاہ اربل نے عمربن محمد کی اقتداء کی تھی اوراصل موجد عمربن محمد تھا، اورحقیقت یہی ہے کہ عمربن محمدایک غریب اورمفلوک الحال شخص تھا، اس ل

Tuesday, 21 November 2017

milad kiya he


Assalamu alaikum warehmatullahi wabarakatuhu
Bismillah hirrehman nirraheem sab tareef allah ke liye he
is post ka maqsad islah ka he or me manta hun ki koi brelwi is post ko khule dil se padh le hat dharmi or duriyo ko mitade to woh barlwi nahi rahega
bhala kab tak yeh majburi rahegi
hamare darmiyan yun duri rahegi
ham sadu sunnat ke jam pesh karte rahe
or janab ko sharabe bidat ki maghuri rahegi
yeh barlwi hazrat jashn manate ham kehte he ki yeh to wahi bachpan ka khel he jisme mitti ke gharonde banate or bad me jab thak jate the to wahi sari mehnat zehen me na rehti unhi gharondo ko apne paw se tod diya karte the
dunya me agar yeh karishma dekhna ho to bachcho ka khel sheher ki pakki sadko par ahbab ke tareeko ko dekh lo or jashne eid milad ko dekh lo pura sal jin gharo ko tameer karte he ise banane me puri mehnat lagate he sal ke bad yeh din yeh mahina yeh ayyam ase ate he apne hi hatho se un sab tameerat ko apne hi hatho se malyamet kar rahe hote he or mismaar bhi kar rahe hote he

Yeh log weh bidat rabiyuawwal ka mahina he yeh barelwi hazraat bade dawe se aqeeda pesh kar rahe hote he ki muhammad saw ki takhleeq adam alehissalam se pehle kar di thi is baat par bahut zor dekar bayan ki jati he is dawe ko pesh karke kitni dalile di jati he agar adam alehissalam ki takhlik se pehle adam miti or gare me the to allah ne muhammad saw ko unse pehle bana dala tha to sawal yeh he ki 12 rabiyuawwal san ki tahdeed karke muhammad saw ki wiladat ka din kiyon manate ho jab tum khud kehte ho ki nabi saw ki pedayish adam alehissalam se pehle he to fir yeh isa alaihissalam ke bad wale din me nabi saw ki pedayish ka din kiyon manate ho dono me tazad nahi he to fir kiya he jab adam alaihissalamSe bade mante ho to fir nabi saw ki umr 63 baras nahi balke adam alaihissalam se bade mana jana chahiye agar barelwiyo ka adam alaihissalam wala aqeeda durust he to fir yeh 12 rabiyuawwal ka jashan manakar isko apne hi hatho se girata kiyon he agar yeh tazad nahi he to or kiya he hamare kuch aqeede se he jo karne nahi padte balki dikhane padte heDusri baat kaha jata he ki nabi saw noor he to sawal yeh he ki agar noor hr to konsa noor ' noor do tarha ka hota he ik khalik ka noor ik
makhlook ka noor ye muhammad saw noori makhluk he to jawab dete he ki noori makhluk he sawal agar noori makhluk he to tera aqeeda eid milad to barbad ho gaya mit gaya agar eid milad unnabi wala aqeeda sahi to fir noori makhluk manne wala aqeeda barbad ho gaya ya to noori makhluk manna galat ya eid milad wala galat inme ae ik sahi hoga dono sahi nahi ho sakte dekho in barelwiyo ka kiya kiya barbad hoga ik sajra nasab in barelwiyo ko seerat ki kitabo se nikalna padega jab yeh barelwi nabi saw ka sajra nasab bayan kar rahe ho to apne noor wale aqeede ko barbad kar rahe hote heDusra nabi saw ke abawaajdad ka inkar kar de khandane nbwi ke unwan mita de abu muttalib ke unwan ko bhi nikal do zawja saw ko bhi kitabo se nikal do ummahatul momineen inko bhi kitabo se nikal do olade rasool saw ka tazkara bhi nikal do ehle bet ka aqeeda zehen se nikal do muharramul haram hahwal or aamal bhi khatm karo or rabiyuawwal ke hahwaal bayan karna chor do or waqiya qarbala nahi rahega shahadate husen nahi rahega har saal lagayi jane wali sabeele nahi rahegi or in sare kamo par bayan ki jane wali daleele bekar agar neeri makhluk hone ka aqeeda sahi he agar yeh sab sahi he to fir noori wala aqeda galat he Tisri chiz dekhte he ki azaan ke andar kuch bhai is baat ko bhul jate he or kehte he assalatu assalamualaika ya noorummin norullah allah huakbar hamne kaha janab yeh kiya he to jawab dete he ki allah ka tukda yani nauzubillah nabi saw khud allah he chalo yeh mana sahi he to ham puchte he ki agar rab ke noor me se noor to fir noori makhluk wala aqeeda to ho gaya barbad kiyonki makhluk or he or khalik or he tazaad yahan he or dusri baaat agar aapko noorumminurillah maan liya jaye aqeeda risalat ho gaya barbad aqeeda nabuwat bhi gaya or aqeeda besat bhi gaya or aqeeda khatme nabuwat bhi gaya agar aapko maan liya jaye ki aap noorumminnoorullah he fir sahibe muqame mehmud bhi gaya fatihe jannatul firdous bhi gaya saiye hoze kosar bhi gaya na shafiye mehshar rahe or sardare olade adam bhi nahi rahe in aqeedo ki haqiqat kiya reh jati he fir quran me jo aapko jo aawaze di jati he ya ayyuharrasul ka kiya mani he ya ayyuhan nabi ka kiya mani he ya ayyuhal mudassir ya ayyuhal muzammil ki kiya haqeeqat he agar aap rab ka noor he agar yeh aqeeda sahi he to fir yeh gumbade khizra kiyon he fir yeh rozae rasool kiya he nabi saw ki qabar kiyon he kiya rab ka noor qabr me dafan hone ke liye he yeh aqeeda barelwiyo ne khud giraya he inhone hamne nahi giraya he jab yeh barelwi jashn eid milad mana rahe hote he to pata nahi kitne aqeedo ko dhadam se gira rahe hote he Or jab rasool allah
noorumminnurillah he to sif or airf betullah par ittifa kiyon nahi kiyon betullah ghar nhi he allah ka yeh izafa allah ki taraf or roze ki nisbat rasool allah saw ki taraf kiyon fir isko rab ka roza bhi kahiye na Yeh barelwi log zor lagakar kehte he ki nabi saw alimulgeb he hame ispar behes karne ki zarurat nahi he yeh aqeeda tumhe mubarak ham puchte he ki bhai aap wahi ke jo baab bayan karte he silsila wahi ka bayan karte he wahi ke aqsaam bayan karte he wahi ke ayyam bayan karte he wahi ki taseer bayan karte he 23 sale dora nabuwat me utra quran bayan karte he or ham kahege ki agar alimul geb he to wahi kis liye or agar wahi he to geb nahi or age kehte he ki aap saw haziro nazir he or yeh barelwi log jashan eid milad ke aqeede ko khak me milate he iski wajha se in barelwiyo ne apne bisyo aqede girwa diye he tabha karwa liye he jab koi aqalmand insan isko dekhega to yeh khula tazad kiyon he in aqeedo ko le to kon le chune to kon chune chalo hamne mana aap haziro nazir he to alimul geb hona kiya he kiya yeh dono mutazad aqeede nahi he kiya nabi saw har jagha par he unse gayab kuch nahi he fir alimul geb bhi he yeh dono mutazad nahi he or fir haziro nazir he to fir sayyad amana ke pet me qayam kis tarha karwaya tumne or jab ma ke pet me the to baap ki pusht me nahi the or jab maa ke pet me the to us waqt bahar to nahi the agar hazir nazir ka aqeeda sahi he to milad ka jawaz khatm agar he to dayi sadiya ke jo qaiyat he qoh khatm makka se lekar jana khatm in waiyat ki sadaqat khatm agar sahi he to fir shebe abi talib jana khatm agar yeh sahi he to nabi saw ka gare hira me bhejna khatm jable noor ka tazkira khatm agar sahi he to zammaluni zammaluni wala waiya khatm agar hazir nazir hona sahi he to take kaba tarke makka tarkw ghar taeke ahlo ayal gare soor me jana teen rato Karen qayam hijrate madeena sare waqiyat be mana nahi hon jate agar hazir nazir he to take hujra dakhule masjid tarke masjid dakhule hujra aapke intezar me bethe huwe shaba ungte huwe sa haba ki nabi saw kab ayege or karwaye jamat Adayige namaz masjid me adayige nawafil ghar me in ahadees ko in jumlo ko chor de in dono me se ik galat to zarur he ya to hazir nazir ya fir ahadees dunya ankh bhi rakhti he dunya kan bhi rakhti he or dunya dimag bhi rakhti he or dunya dil bhi rakhti he or yeh rabiyuawwal ka mahina ise yeh barelwi nabiyu noor ka mahina nam dete he agar yeh sahi he to gazwa ke safar khatm agar yeh aqeeda durust he to safre badar khatm khuruje ohad khatm jange khandak khatm suleh hudebiya khatm gazwae khebar khatm agar yeh sahi he to safre makka khatm madeena se zulhulefa Ke tazkire khatm zuhulefa se makka rawngi khatm makka se meena jana khatm meena se arafat pahunchna khatm arafat se wapis meena or usse pehle muzdalfa ana khatm
muzdalfa se meena ana khatm jab hazir nazir he to jamrae ula ya jamrae wusta ya jamrae uqba ye bade bade qubra inke tazkire khatm hazraat agar hazi nazir he to makka se betul muqaddas or wahan se isra or meraj par jana khatm or aap saw upar the to wahan allah bilaya kiyon tha agar aap neeche the to wapis kis tarha or agar aap har jagha the to har asman par dastak ke waqiye waqiyaat na sunaya karo in barelwiyo ke hazir nazir hone ke parkhache inki apni zuban ud rahe hote he hazraat ab sochne ki baat he ehlehadith se sachcha mazhab kiya ho sakta he Or yeh barelwi nabi saw ko mushkil kusha mante he to yeh barelwi duwa mangte wat nabi saw ka waseela kiyon dete he yeh waseela or wasta kis liye tawassul kis liye wazahe nabi wazahe rasool wazahe pegambar kis lis liye agar aap saw mushkil kusha he to aapke makke dor ke masayil aapki pareshaniya aapke upar mashakkat we musibate aalke upar dali gayi ojhdhi unko apni majlis me zikr karna chor do agar yeh sahi he to hihrate habsha khatm agar aap saw mushkil kusha he to shebe abi talib me bandishe khatm safre tayif ki lahuluhan dastn ke unwan khatm walida majida jadde amjad chcha abu talib ehliya sayyade khatija kibwafat bete ki wafat or un amil husan ke tazkire khatm agar aap mushkil kusha he to badar ki chodah shahadate khatm ohad ki 70 lashe khatm shayadus suhada ka muamla khatm kar do bete or betiyo ki wafat ke tazkire chor do barema ke 70 qura ka silsila bayan na karo or kanute nazila ko chor do in waqiyat ko hatakar rakh do agar mushkil kusha ke aqayid in haqayik ke mutasadim nahi he to agar mushkil kusha sahi he to fir yeh haqayik galt or agar yeh haqayiq sahi he to fir mushkil kusha ke aqayid galat dono me se ik ko chorna padega or ik ko lena padega Ik taraf pegambar mukhtare kul or dusri taraf shafe mehshar kiya in dono me se koi ik sahi ho sakta he dono nahi ik ko galat hona padega kiyonki jo muktare kul ho use shifarish ki zarurat nahi hoti agar mukhtaee kul he to fir shifaat ki zarurat kiyon shifarish ka tazkira kiyon khud hi mukhtar aam mukhtare kul he khud hi maaf kara de iska mana kiya he agar aap saw ko shafe mehshar mante he to woh aqeeda mukhtarekul galat he dono me se koi ik galat he agar eid milad sahi he haq he to mukhtare kul ka aqeeda barbad ho gaya mukhtare kul ko wiladat ke marhalo me medud nahi hona padta agar aap saw mushkil khusha the nabi saw ko janm ki takleefo se kiyon guzarna pada agar mukhtare kul sahi to fir yeh baqi pirchar kiyon ik taraf nabi saw wiladat we ba shahadat ka pirchar dusri taraf bashariyat ka inkar or jab yeh barelwi log eid milad ka jashan mana rahe hote he nabi saw ko bashar man rahe hote he nabi saw keh gaye he ki me adam ki olad hun sardar hun adam ki olad bashar ik taraf is hadith ka ikrar dusri taraf nabi ki bashariyat ka inkar ik taraf aap saw adam alaihissalam ki olad dusri taraf bashariyat ka inkar ik taraf aap ki umar ki tahded 63

 moot hi nahi ayi to fir yeh umr 63 baras kiyon admi jab marta he to uski umr lagti he or aaj nabi ki umar pedayish se 1490 ke qareeb hoti or agar adam alaihissalam se pehle ka silsila he to hame umr pata nahi yeh barelwi hazraat hi bata de jab yeh barelwi hazraat eid milad ka poster lagate he to usme nabi saw ki qabr ki tasweer se yeh pata chalta ye ki nabi mukhtare kul nahi sochne wali baat he jab kisi ke ghar me beta peda hota he to koi uske ghar me kafan gift kare to weh kahega ki mere ghar beta aya he tu kafan bhej raha he asa hi yeh he 12 rabi ko nabi saw peda huwe or yeh barelwi hazraat poster par qabr ki tasweer bana rahe hote he sochne wali baat he ik taraf ittibaye rasool ka dawa dusri taraf itaat or ittiba ko chor kar kisi ummati imam ki taqleed ki rah kiyon kiya iske rasool or hamara tarze amal mutisadim chiz to nahi ik taraf gulamiye rasool me mot bhi qabool he dusri taraf abao ajdad ki rasmo par mar mitne ka rujhan kiyon he gulamiye rasool me moot ka dawa yeh he or mar kis par rahe he abaoajdad ki rasool par ik taraf sab tumhara karam he nabi saw ka silogan ik taraf gose azam bagdad wale bhai agar sara karam unhi ka he to fir kisi or ki zarurat kiya ik taraf bhar do jholi ya muhammad or duari taraf data ali hajweri ik taraf masjid me qayam bhi ruqu bhi sjud bhi tashahud bhi sana bhi alhamd bhi fatiya bhi kulhuwallah bhi or dusri taraf kabhi tere dar pe kabhi mere dar oe kabhi unke dar pe kabhi dar badar jhuke mera sar Har shamo sheher o bhai barelwiyo kiya yeh khula tazad nahi he to fir kiya he me yeh kehta hun in barelwiyon se yeh sab kara karaya in barelwiyon par to nahi gir raha he me in barelwiyon ko dawat deta hun ki bhaiyon quran or sunnat ki taraf aao is tazad wale dharm ko chor do Allah kehne or sunne se ziyada amal karne ki tofeeq de aameen

Monday, 21 August 2017

ALLAH KAHAAN HAI ? SAHAABA [ Radi Allah Tala ‘Anhu ] KE AQWAAL



Qais [ Radi Allah Tala ‘Anhu ] kahte hain : “Jab ameerul Momineen Umar [ Radi Allah Tala ‘Anhu ] sham gaye to woh apni wountni par sawaar the, logon ne unse kaha agar aap ghode par sawaar hote to achchha tha kyun ke aap se milne ke liye bade bade log aaye hain to bad Rasoolullah ﷺ  ke doosre bila fasl khaleefah Ameerul Momineen Umar Farooque
[ Radi Allah Tala ‘Anhu ] ne farmaya : “Kiya main tum logon ko yahaan se dikhaayi nahin de raha, bila shak faisle to wahaan se hote hain aur yeh kahte huye apni ungli se aasmaan ki taraf isharah kiya”

{ Musannaf ibne Abi shayba : 34443,33844, Imam Albani ne kaha ke iski sanad Bukhari aur Muslim ki sharaayet ke mutaabiq sahih hai }

DEEWAR PAR AYTALKURSI KA LATKANA



الحمد للہ
گھروں سکولوں اور دوکانوں وغیرہ کی دیواروں پرقرآنی آیات پرمشتمل کپڑے اور پلیٹیں لٹکانے میں کئی ایک شرعی قباحتیں ہیں ، جن میں سے ذیل میں چند ایک ذکر کی جاتی ہیں :

1 - غالب طور پر بطور زینت اور دیوارو ں کی خوبصورتی کے لیے لٹکائ جاتی ہیں جس میں قرآن کریم سے انحراف کا پہلو نکلتا ہے کیونکہ قرآن کریم تو بطور ھدایت اور وعظ ونصیحت اورتلاوت کرنے کے لیے نازل کیا گيا ہے ، اس لیے نہیں کہ اس سے دیواروں کی زیبائش اورتزيین کی جاۓ ۔

2 – بعض لوگ اسے بطور تبرک لٹکاتے ہیں جو کہ بدعت ہے ، مشروع تبرک تو اس کی تلاوت ہے نہ کہ اس کے لٹکانے اور اسے شلفوں میں رکھنے اوراس کی پلیٹیں تیارکرنے میں تبرک پایا جاتا ہے ۔

3 - اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضي اللہ عنہم کے طریقے کی مخالفت ہے کیونکہ انہوں نے یہ کام نہیں کیا ، اس لیے خیرو بھلائ اور بہتری تو ان کی اتباع و اطاعت میں ہے نہ کہ بدعات ایجاد کرنے میں
بلکہ تاریخ اس با ت کی شاھد ہے کہ ترکی اور اندلس میں یہ نقوش اور زیبائش اور گھروں اور دیواروں پر ان نقوش کو لٹکانے کا کام مسلمانوں کی کمزوری اور ذلت کے دور میں شروع ہوا ۔

4 - اس کا لٹکانا شرک کا ایک ذریعہ ہے ، اس لیے کہ بعض لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے لٹکانے سے گھراوراس میں رہائشی لوگوں کی شرو برائ و آفات سے حفاظت ہوتی ہے ، تو یہ اعتقاد شرکی اور حرام ہے ، بچانے والا تو اللہ تعالی ہے اور بچانے کے اسباب میں سے قرآن کریم کی خشوع اور یقین کے ساتھ تلاوت اور اذکار شرعیہ ہیں

5 - اس کو لکھنے میں قرآن کریم کوتجارت کی ترویج اور منافع میں زيادتی کا وسیلہ بنانا ہے ، تو ضروری ہے کہ قرآن کریم کو اس سے علیحدہ رکھا جاۓ کہ وہ یہ وسیلہ بنے ، اور یہ بھی معلوم ہونا چاہۓ کہ ان پلیٹوں اور لوحات میں اسراف اور فضول خرچی بھی ہے ۔

6 - ان پلیٹوں اور لوحات میں سے بہت ساری تو سونے کے پانی والی ہوتی ہیں ، جس کی بنا پر اسے لٹکانے اور استعمال کی حرمت اوربھی شدت اختیار کرجاتی ہے ۔

7 - ان میں سے بعض تختیوں اور پلیٹوں میں واضح طور پر عبث ہیں مثلا ایسی لکھائ جو کہ جس میں غموض ہوتا ہے اوروہ پڑھی بھی نہیں جاتی اورنہ ہی اس کا کوئ فائدہ ہے ۔ اور بعض تو کسی پرندے کی شکل اور یا پھر کسی سجدہ کرتے ہوۓ شخص کی شکل میں لکھی ہوتی ہیں ، اور اسی طرح اور دوسری ذی روح کی اشکال میں جو کہ حرام ہیں ۔

8 - اس میں آیات قرآنی کو امتحان اور گندگی پر پیش کرنا ہے ، مثلا جب ایک گھر سے دوسرے گھرمیں سامان منتقل کیا جاتا ہے تو دوسرے مختلف سامان کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور پھر اس کے اوپر کئ اشیاء بھی رکھ دی جاتی ہیں جس سے اس کی اھانت کا پہلو نکلتا ہے ، اور اسی طرح جب دیواروں کو رنگ اور گھرکوصاف کیا جاتا ۔

9 - بعض دین سے دور مسلمان اسے یہ سمجھتے ہوۓ لٹکاتے ہیں کہ وہ دینی کام کررہے ہیں تا کہ اپنے ضمیر کی ملامت سے بچ سکیں باوجود اس کے کہ وہ ان کے کچھ بھی کام نہيں آتیں ۔ اجمالی طور پر یہ ضروری ہے کہ شر کے اس دروازے کو بند کیا جاۓ اور اس راہ پر چلا جاۓ جس پرخیر القرون میں لوگ چلتے تھے جس کی اچھائ کی شھادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی کہ اس دور کے مسلمان عقیدہ اور سارے دینی احکام میں افضل ہیں ۔
پھراگر کو‏ئ یہ کہے کہ ہم اس کی توھین تو نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی زينت بناتے اور نہ ہی اس میں غلوکرتے ہیں بلکہ ہم تو اس سے لوگوں کی مجالس کی اندر وعظ و نصیحت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ : جب ہم واقع کو دیکھتے ہیں تو کیا حقیقتا ایسا ہی ہوتا ہے ؟ اور کیا مجلس میں بیٹھے سب لوگ اللہ تعالی کا ذکر کرتے اوریا وہ جب سر اٹھاتے ہیں تو لٹکی ہوئ آیات کی تلاوت کرتے ہیں ؟
توحقیقت اس کے برعکس ہے ، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے سروں کے اوپر دیواروں کے ساتھ آیات لٹک رہی ہیں اس کی مخالفت کرتے اور جھوٹ اور غیبت اور مذاق کررہے ہوتے ہیں ، اور برائ کرتے اور بولتے ہیں ، اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ ان میں سے کچھ لوگ ان لٹکی ہوئ‏ آیات سے بالفعل مستفید ہوتے ہیں تو ان کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ اس کی اس مسئل میں کچھ بھی تاثیر نہیں کیونکہ قاعدہ ہے القلیل کالمعدوم ، قلیل تعداد نہ ہونے کر برابر ہے ۔
تو مسلمانوں کے لۓ ضروری ہے کہ وہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ جو کچھ ہے اس پر عمل بھی کریں ۔

اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ وہ قرآن مجید کو ہمارے دلوں کی بہاراور سینوں کا نوراور ہمارے حزن وغم کی جلاء بناۓ اور غموں کو دور کرنے کا سبب بناۓ -   آمین یا رب العالمین ۔
 وصلی اللہ علی نبینا محمد ۔
    واللہ تعالی اعلم .

          الشیخ محمد صالح المنجد

QURAN SAMAJHNA ASAAN HE




🖌تحریر: مقبول احمد سلفی

لوگوں میں مشہور ہوگیا ہے کہ قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے ، یہ عربی زبان میں ہے اسے صرف عربی داں ہی سمجھ سکتے ہیں ۔اس کتاب کو سمجھنے کے لئے اٹھارہ علوم سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ العیاذ باللہ یہ بھی کہاجاتاہے کہ اگر عوام قرآن کا ترجمہ پڑھیں گے تو گمراہ ہوجائیں گے ۔
یہ بات دراصل پیٹ پرست، مطلب پرست اور شہرت پسند کم علم ملاؤں کی طرف سے پھیلائی گئی ہےتاکہ ساری عوام ان ملاؤں کے زندگی بھر غلام رہے اور یہ مولوی ان سے عزت، شہرت اور دولت بیجا حاصل کرتا رہے حالانکہ قرآن سمجھنا نہایت آسان ہے ۔ اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کے لئے نازل کیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من قرأ القرآنَ وتعلَّمه وعمِل به أُلبِسَ والداه يومَ القيامةِ تاجًا من نورٍ (صحيح الترغيب: 1434)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا ،اسے سیکھااور اس پہ عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایاجائے گا۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ مومن کو سمجھ کر قرآن پڑھنا چاہئے تاکہ صحیح سے اس پر عمل کرے جس کا بدلہ اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کے تاج کی شکل میں ملے گا۔
قبرمیں جب مومن بندہ تین سوالات کا جواب دے دیگا تو منکر نکیر چوتھا سوال پوچھیں گے ۔
وما يُدريكَ ؟ فيقولُ: قرأتُ كتابَ اللَّهِ فآمنتُ بِهِ وصدَّقتُ(صحيح أبي داود: 4753)
ترجمہ : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی تو وہ کہے گا : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، اس پہ ایمان لایااور اس کی تصدیق کی ۔
یہ حدیث بھی ہمیں قرآن کے نزول کا مقصد بتلاتی ہے کہ اسے سمجھ کرپڑھاجائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے ۔
ہمیں تو قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی بتلاتا ہے کہ علم حاصل کرو۔
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(سورة العلق:1)
ترجمہ: پڑھو اپنے اس رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔
یہی وہ علم ہے جس کے بارے میں کل قیامت میں سوال بھی کیاجائے گا۔
لا تزولُ قدَما عبدٍ يومَ القيامةِ حتَّى يُسألَ عن أربعٍ : عن عُمرِهِ فيمَ أفناهُ ؟ وعن علمِهِ ماذا عمِلَ بهِ ؟ وعن مالِهِ مِن أينَ اكتسبَهُ ، وفيمَ أنفقَهُ ؟ وعن جسمِهِ فيمَ أبلاهُ ؟ (صحيح الترغيب:3592)
ترجمہ : قیامت میں مومن کا قدم اس وقت تک ٹل نہیں سکتا جب تک چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے ۔ عمر کے بارے میں کہ تونے کہاں گذاری،علم کے بارے میں کہ تم نے کتنا اس پہ عمل کیا، مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایااور کہاں صرف کیا، جسم کے بارے میں کہ کہاں خرچ کیا۔
ان باتوں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ عمل کرنے سے پہلے علم کا حصول ضروری ہے ، بایں سبب اسلام میں علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے ۔
طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلم ٍ(صحيح الجامع:3914)
ترجمہ : علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔

❇قرآن سمجھنا آسان ہے اس کے منطقی دلائل :
اب چلتے ہیں اس طرف کہ قرآن سمجھنا کس قدر آسان ہے ؟۔ اس بات کو پہلے منطقی اور عقلی طورپہ ثابت کرتاہوں ۔
1⃣ابھی میں نے بتلایاہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد سمجھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے اور یہ قرآن ساری کائنات کے لئے نازل کی گئی ہے ۔ ہندو،مسلم،سکھ ۔عیسائی۔خواہ اس کی زبان ہندی،اردو،انگریزی،فارسی کچھ بھی ہو۔اور وہ کسی بھی علاقے کا رہنے والاہو۔بھلا اللہ تعالی ایسی کتاب کیوں نازل فرمائے گا جو دنیاوالوں کی سمجھ سے باہر ہواور لوگ جس کے سمجھنے سے قاصرہوں؟۔
اگر ایسا ہے تو پھر قرآن کے نزول کا مقصد فوت ہوجائے گا اور آخرت میں علم وعمل کے متعلق سوال کرنا بندوں پہ ظلم ٹھہرے گاجبکہ ہمیں معلوم ہے کہ نہ تو قرآن کانزول بلامقصدہے اور نہ ہی اللہ بندہ پر ذرہ برابر ظلم کرنے والاہے ۔
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا(سورة آل عمران : 191)
ترجمہ : اے ہمارے تونے (یہ کائنات) بلامقصد نہیں بنائی ۔
اسی طرح اللہ کافرمان ہے :
وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (سورة ق:29)
ترجمہ: اور ہم ذرہ برابر بھی بندوں پرظلم کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔


2⃣دنیا میں ہزاروں غیرمسلم اسلام قبول کرتے ہیں ۔ یہ سب قرآن سے متاثرہوکراسلام قبول کرتے ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی قرآن ہی کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے ہیں تاکہ اسلام پہ مضبوطی کے ساتھ جم جائے ۔
بی بی سی کے سابقہ ڈاریکٹر جنرل جان بٹ کا بیٹا یحی بٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتاتھا اس نے اسلام قبول کرلیا۔اس کے پی ایچ ڈی کا موضوع تھا
" یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے ؟ "
چنانچہ انہوں  نےدوتین سال تک اس بات کی تحقیق کی اور پھر اس نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتلایاگیاتھاکہ پچھلے دس سالوں میں تیرہ ہزاریورپین نسل کے لوگوں نے اسلام قبول کیا جن میں سے اسی (80 ) فیصد لوگ قرآن سے متاثرہوکراسلام کو گلے لگایاتھا۔ ان نئے مسلموں میں ایک امریکی خاتون تھی جس کا نام ایم کے ہرمینسن تھا ۔ اس نے اپنے اسلام لانے کی وجہ بتلائی کہ میں اسپین میں تعلیم حاصل کرتی تھی ، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیوکی سوئی گھماتے گھماتے ایک ایسی آواز پہ اٹک گئی جہاں سے ایسی آواز آرہی تھی جسے سن کا میں مبہوت ہوگئی ۔ لگاتار کئی دنوں تک اس آواز کوسنتی رہی ۔ مجھے لگایہ میرے دل کی آوازہے ۔ پھر کسی سے اس آواز کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی آواز(تلاوت) ہے ۔
پس میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کیا اور مکمل پڑھ لیا  ۔ پھر سوچا کیوں نہ  اس کتاب کو اس کی اصل زبان عربی کے ذریعہ پڑھی جائے؟ چنانچہ مصر کی قاہرہ یونیورسٹی سے عربی میں دوسالہ ڈپلومہ کورس کیا۔ اس کےبعد اب اصل عربی قرآن کو سمجھ کرپڑھی تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔ سبحان اللہ
آج مسلمانوں میں شرک و بدعت کی گرم بارازی اور اختلاف وانتشارکے بادسموم کی بڑی وجہ عوام کا قرآنی تعلیمات سے دوری اور اسے سمجھ کر نہ پڑھناہے۔اگر لوگ اسے سمجھ کرپڑھنے لگ جائیں تو امت ایک پلیٹ فارم اور کتاب وسنت کے ایک ہی شاہ راہ پہ جمع ہوجائیں ۔ اے کاش ایسا ہوتا۔
3⃣جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جیسے دنیاوی علوم کے الگ الگ ماہرین ہیں ۔ طب کے اندر جسم کے الگ الگ حصے کے الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں اسی طرح قرآنی علوم کے بھی الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں کوئی قرات کا ماہر،کوئی علم نحووصرف کاماہر،کوئی لغت کاماہر تو تفسیرکاماہروغیرہ ۔
ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میرے بھائی مولویوں کی ایسی باتوں پہ نہ جائیں ۔اگر وہ آپ کے خیرخواہ ہوتے توکہتے کہ قرآن کی تعلیم مجھ سے سیکھ لومگر وہ ایسانہیں کہتے بلکہ الٹاقرآن سے ڈراتے ہیں۔ یہ زمانہ سائنس وٹکنالوجی کاہے ۔ اس وقت اندھا ،بہرااور گونگاسب کی تعلیم کا بندوبست ہے تو پھرمسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا دشوار کیوں؟ آرٹ اور کمرس کے بالمقابل سائنسی علوم زیادہ سخت ہیں ۔باوجودسائنسی علوم سخت ومشکل ہونے کے اسی فیلڈ میں لوگوں کی بہتات ہے ۔اور یہاں مسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا مشکل لگ رہاہے ،کیوں؟
نبی ﷺ نے تو قرآن کی مکمل تعلیم سے امت کو آراستہ کردیا ۔ قرآن کی آیت " لتبین للناس ما نزل الیھم" (آپ کی شان یہ ہے کہ جس بات کی آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کو کھول کھول کر بیان کردیں)۔ نبی ﷺ نے ہپ فریضہ بحسن وخوبی انجام دے دیا ۔ اب کس بات کی ضرورت ہے ؟ مزید برآں اہل علم نے سارے علوم کو یکجا کردیا ۔اب کس بات کی ضرورت ہے ؟
آپ کوئی تفسیر اٹھالیں ۔ آیت پڑھیں اس کا ترجمہ پڑھیں ۔آیت کا معنی معلوم ہوجائے گا۔اور آیت کے ساتھ تفسیر پڑھ لیں تو آپ کو آیت کا مکمل معنی ومفہوم معلوم ہوجائے گا۔
آپ سے میں سوال کرتاہوں کہ اس کام کے لئےآپ کو کن علوم کی ضرورت ہے ؟ بلاشبہ کسی علم کی ضرورت نہیں ۔صرف اس زبان کی ضرورت ہے جس زبان میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں گے ۔
4⃣اگر قرآن سمجھنا مشکل ہوتا تو اولا اس پہ عمل کرنا اس سے بھی مشکل ہوتا۔ ثانتا قرآن سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف پڑھنا مقصود ہوتا تو قرآن کی تعلیم ، نبی ﷺ كا اس کی تعلیم پہ ابھارنا، قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والےکو افضل قرار دینا لغوٹھہرتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ سورہ اخلاص ثلث قرآن ہے ۔اس کا مطلب یہ ہواکہ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے سے  قرآن پڑھنا حاصل ہوگیا۔مکمل قرآن پڑھنے کی کیاضرورت؟ اور احادیث میں ایسے ایسے اذکار مسنونہ بتلائے گئے ہیں جن کے پڑھنے سے لاکھوں کروڑوں ثواب قرآن پڑھے بغیر مل جائے گا ۔
ان باتوں سے حاصل ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد سمجھ کر پڑھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے ۔


🔴قرآن سمجھنا آسان ہے اس پہ قرآن وحدیث کے دلائل :
✅پہلی دلیل : اللہ کا فرمان ہے :
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ(سورةالبقرة:121)
ترجمہ : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کتاب کی اس طرح تلاوت نہیں کرتے جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ، ایسے لوگ ہی اس پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں۔
اس آیت میں تلاوت کی شرط "حق تلاوتہ " بتلائی گئی ہے اور ایسے ہی تلاوت کرنے والوں کو صحیح ایمان لانے والا قراردیاہے ۔ تلاوت کا حق یہ ہے کہ قرآن کو غوروخوض کے ساتھ سمجھ کر پڑھاجائے تاکہ اس پہ عمل کیاجائے ۔ لسان العرب میں تلاوت کا ایک معنی یہ بتلایاگیاہے "پڑھنا عمل کرنے کی نیت سے " ۔ عمل کرنے کی نیت سے قرآن پڑھنا اس وقت ممکن ہوگا جب اسے سمجھ کر پڑھاجائے ۔

✅دوسری دلیل : اللہ تعالی نے خود ہی واضح کردیا کہ قرآن نصیحت کے واسطے آسان ہے ۔
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(سورة القمر:17)
ترجمہ : اور ہم نے قرآن کو آسان بنایاہے ، ہے کوئی جو اس سے نصیحت حاصل کرے ۔
یہ آیت سورہ قمر میں چارمقامات میں آئی ہے ۔وہ آیت17، آیت 22، آیت 32اور آیت 40 ہیں۔

✅تیسری دلیل : قرآن سمجھنے کی کتاب ہے اور جو کتاب سمجھنے کی ہو اسے ہرکوئی سمجھ سکتا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورة الانبياء :10)
ترجمہ : تحقیق کے ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

✅چوتھی دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ اسے سمجھاجاسکے ۔اللہ نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (سورة يوسف:2)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کوعربی زبان میں نازل کیاتاکہ تم سمجھ سکو۔

✅پانچویں دلیل : قرآن کے نزول کا مقصد تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاناہے اور یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے اسے سمجھ کرپڑھاجائے تاکہ اس کی طرف دعوت دی جائے۔ فرمان رب ذوالجلال ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ(سورة ابراهيم:1)
ترجمہ : یہ عالیشان کتاب ہم نے آپ پر نازل کیاکہ آپ لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لائیں ۔

✅چھٹی دلیل : یہ ہدایت کی کتاب ہے ، یہ کتاب اسی وقت ساری کائنات کے لئے ہدایت کا سبب بن سکتی ہے جب اس کا سمجھنا آسان ہو۔  اللہ کا فرمان ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ(سورة البقرة : 185)
ترجمہ : رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجولوگوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔

✅ساتویں دلیل : اللہ نے قرآن پاک اس لئے نازل کیاتاکہ اس میں غورکیاجائے ۔ فرمان احکم الحاکمین ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورة ص :29)

ترجمہ : یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل کیاہے کہ لوگ اس کی آیتوں پہ غوروفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
دوسری جگہ اللہ کاارشاد ہے :
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورة محمد :24)
ترجمہ : کیایہ لوگ قرآن میں غورنہیں کرتے ؟

✅آٹھویں دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کوپہاڑ پہ نازل نہیں کیاکیونکہ اس میں سمجھ نہیں ہے ، انسان کے اندر سمجھ بوجھ ہے اس لئے اللہ نے ان پہ نازل کیا۔
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ(سورة الحشر:21)
ترجمہ : اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پہ اتارتے تو تودیکھتا کہ خوف الہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ۔

✅نویں دلیل : نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لاَ يفقَهُ من قرأَهُ في أقلَّ من ثلاثٍ(صحيح أبي داود:1390)
ترجمہ : جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن سمجھ کر پڑھنا چاہئے اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ قرآن تین دن میں بھی سمجھ کر ختم کیاجاسکتاہے ۔

✅دسویں دلیل : نبی ﷺ کا عام فرمان ہے :
إنَّ هذا الدينَ يسرٌ(صحيح النسائي:5049)
ترجمہ : بے شک یہ دین آسان ہے ۔

یوں تو اس پہ بے شماردلائل ہیں مگر میں نے قرآن وحدیث سے دس ادلہ پیش کردیاتاکہ اپنی حجت ان  لوگوں پہ تمام کروں جو قرآن سمجھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔
آپ تصور کریں کہ جس دین کی بنیاد آسانی پر ہو اور جس دین کی پہلی وحی کا آغاز لفظ "اقرا "سے ہوبھلا وہ کتاب کیسے مشکل ہوسکتی ہے ؟ عقل میں بھی یہ بات نہیں آتی اور کتاب وسنت کے دلائل بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔

❇چند علماء کے اقوال :
1⃣مولوی انیس احمد دیوبندی انوارالقرآن صفحہ نمبر35 پر لکھتے ہیں کہ جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں وہ ان کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کوبالکل سمجھ نہیں سکتے ، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے علوم وفنون کی ضرورت ہے اور بڑے جیدعالم ہونے کی ضرورت ہے ۔
2⃣شاہ اسماعیل شہیدؒ تقویۃ الایمان میں لکھتے ہیں کہ عوام الناس میں یہ بہت مشہور ہے کہ اللہ ورسول ﷺ کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے ، اس کے لئے بڑا علم چاہئے تویہ بات بہت غلط ہے اس واسطے کہ اللہ نے فرمایاہے کہ قرآن مجید میں باتیں صاف اور صریح ہیں ۔ ان کاسمجھنا مشکل نہیں اور اس کو سمجھنے کے لئے بڑا علم نہیں چاہئے ۔
3⃣شاہ ولی اللہ ؒ فتح الرحمن میں لکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مثنوی مولاناجلال الدین،گلستاں شیخ سعدی، منطق الطیر شیخ فریدالدین عطار،قصص فارابی ، نفحات مولاناعبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں ، اسی طرح طرح قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھ کر قرآن مجید پڑھنے کی توفیق دے ۔ آمین

♻نوٹ : عوام کے لئے ایک اہم مضمون ہے اسے کثرت سے شیئر کیاجائے..




MARNE KE BAAD FAYIDA PAHUNCHAN WALE AAMAAL


🔴सवाल -कौनसी चीज मुर्दो को फायदा पहुँचाती है ❓
🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺🔺

जवाब-
भाईयों मरने के बाद सिर्फ वहीं चीजें फायदा दे सकती जो अल्लाह ने अपने नबी सल्ललाहो अलेही वसल्लम को बताया है और नबी सल्ल ने हमें बताया है अब सवाल उठता है कि कौनसी चीज मुर्दे को सवाब पहुँचाती है
आइये इसका जवाब हदीस शरीफ में देखते हैं

🔴दलील-1
रसूलुल्लाह सल्ललाहो अलेही वसल्लम ने फरमाया कि जब इंसान मर जाता हैं तो उसके नेक आमाल बंद कर दिए जाते हैं सिवाय तीन 3 तरह के
1⃣सद्का-ए-जारिया
(यानी अल्लाह की राह में लगाया हुआ माल जो लोगों को मुसलसल फायदा पहुंचाता रहता हैं।)
2⃣जो इल्म लोगों को सिखाया हो और उससे लोग फायदा उठा रहे हो
(यानी उसने अगर किसी को दीनी तालीम सिखाई हो और जब तक वह इंसान उस तालीम पर अमल करता रहता है या वह उस तालीम को दुसरे जितने भी लोगों को सिखाता हैं सबका सवाब मरने के बाद भी मिलता रहता है।)
3⃣नेक औलाद जो उसके लिए दुआ करे
दलील📚जामेया तीर्मीजी शरीफ हदीस नं-1376
(हदीस सही और हसन दर्जे की है।)

🔴दलील-2
नबी सल्ललाहो अलेही वसल्लम ने फरमाया"एक शख्स का जन्नत में दर्जा बुलंद होगा,फिर वो पूछेगा कि यह कैसे हुआ,फिर उसे कहा जाएगा तुम्हारे औलाद की दुआ की वजह से  जो वह तुम्हारे लिए करता है।"
📚सही इब्ने माजा-3660
(हदीस सही और हसन है।)

⛔इस हदीस से मालूम हुआ की नेक औलाद की दुआ से मुर्दे को फायदा पहुँचाता है

🔴दलील-3
रसूलुल्लाह सल्ललाहो अलेही वसल्लम ने फरमाया "बेशक सबसे पाकीजा चीज जो इंसान खाता है वो उसके हाथों की कमाई है और उस की औलाद भी उसकी कमाई है।"
📚सुनन अबु दाऊद-3528
(हदीस सही और हसन है।)

⛔इस हदीस से मालूम हुआ कि औलाद वालदैन की ही कमाई है यानी अगर औलाद कोई नेक आमाल करता हैं या अपनी कमाई मे से अल्लाह की राह मे सदका खैरात करता है तो उसका सवाब खुद ब खुद वालदैन को मिलता रहता है चाहे उसके वालदैन जिन्दा हो या फौत हो गये हो।

🔴दलील-4
"एक शख्स ने रसूलुल्लाह सल्ललाहो अलेही वसल्लम से अर्ज किया कि मेरी वालीदा(माँ) का इंतेकाल हो गया है और अगर वह बोल पाती तो उन्होंने कुछ सद्का किया होता।तो अगर मैं उनकी तरफ से कुछ सद्का में दे दु तो क्या उन्हें सवाब मिलेगा?
आप सल्ललाहो अलेही वसल्लम ने फरमाया-हाँ।"
📚सही बुखारी शरीफ-1388

⛔इस हदीस से मालूम हुआ की अगर औलाद अपने वालदैन के लिए सद्का खैरात या जो भी नेक आमाल करता है उसका सवाब उसके वालदैन को पहुँचता है।

तो भाइयों नबी सल्ललाहो अलेही वसल्लम से सिर्फ तीन 3 चीजें ही साबित है मुर्दे को सवाब पहुँचाने के लिए।इसके अलावा जितने भी तरीके आजकल चलन में है उन सबका कुरआन और हदीस में कोई सबूत नहीं मिलता।
कुछ तरीके और उसकी वजाहत👇🏾

1-कुरआनख्वानी करवाना
भाइयों कुरआन पढ़ना सवाब का काम है लेकिन एक खास रिवाज कुरआनख्वानी के नाम से जरूरी बना लेना जिसमें पैसा देकर मुल्ला मौलवी और मदरसों के बच्चों को घर में बुलाकर कुरआन शरीफ पढ़वाया जाता हैं इस यकीन के साथ की इससे मरहूम को सवाब पहुँचेगा तो ये तरीका नबी सल्ल से साबित नहीं है और न हीं आप सल्ल ने इसका हुक्म दिया है,बल्कि ये बिद्अत है इससे मुर्दे को कोई सवाब नहीं पहुँचता है।

2- लोगों का जमा होकर तस्बीहात पढ़ना
भाइयों अल्लाह की तस्बीह पढ़ना सवाब का काम है लेकिन एक खास रिवाज फातेहा के नाम से जरूरी बना लेना जिसमें बहुत सारे लोग मय्यत के घर में जमा होकर कंकरीयो पर तस्बीह पढ़कर मुर्दे को बख्शाते हैं,ये तरीका नबी सल्ल से साबित नहीं और न ही इसका हुक्म है बल्कि ये बिद्अत और लोगों का बनाया हुआ तरीका है।इससे मरहूम को कोई सवाब नहीं पहुँचता।

3-दसवाँ,चालीसा या बरसी करना
भाईयों गरीब को खाना खिलाना बहुत बड़ा सवाब का काम है लेकिन इसके लिए किसी खास दिन को मुकर्रर (फिक्स)कर लेना जैसे दसवाँ(मरने के दस दिन बाद) या चालीसा(मरने के चालीस दिन बाद)या बरसी(जिस दिन इंतेकाल होता है हर साल उसी दिन को फिक्स करना) और उस खाने में अमीर लोगों को दावत देना इस यकीन के साथ कि इससे मरहूम को सवाब मिलता है ये सब तरीका सरासर बिद्अत है इससे मुर्दे को कोई सवाब नहीं मिलता।

4-लीला सिखाइ करना
भाइयों आजकल मुस्लिम समाज में मुर्दे की लीला सीखाइ नाम से एक रिवाज है जिसमें लोगों को जमा करके ऐलान करना कि मुर्दे की तरफ से कितना सद्का और खैरात किया गया है ।ये तरीका नबी सल्ल की हुक्म के खिलाफ है क्योंकि इसमें रियाकारी और दिखावा होता है इससे मरहूम को कोई सवाब नहीं पहुँचता।

इसके अलावा मुर्दे को इसाले सवाब के नाम पर और भी बहुत सारे रिवाज है।जिसका शरीयत में कोई सबूत नहीं मिलता।

भाइयों याद रखे कि अल्लाह के यहाँ वहीं इबादत काबिले कबूल है जो नबी सल्ल और सहाबा किराम के तरीकों के मुताबिक की जाए।
जो इबादत हम अपने तरीकों और रस्म बनाकर करेंगे तो उससे कोई फायदा नहीं मिलेगा।

उम्मीद करता हूँ कि आपको बात समझ में आ गई होगी
दुआ में याद रखे
वल्लाहु आलम

ALLAH KO KISI NE NAHI DEKHA BARELWIYON KE LIYE LAMHA E FIKRIYA


❤ ميرى امى کے فتوے ❤

💎 مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا انہوں نے فرمایا اے ابو عائشہ (یہ ان کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی ان کا قائل ہو جائے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندها
🌱 میں نے عرض کیا وہ تین باتیں کونسی ہیں
❤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ایک تو یہ ہے کہ جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا
🌱 مسروق کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا میں نے یہ سنا تو اٹھ کر بیٹھ گیا میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے بات کرنے دیں اور جلدی نہ کریں! کیا اللہ نے نہیں فرمایا: وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ (اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا) النجم: 13
🌹 عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان آیتوں سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں نہیں دیکھا سوائے دو مرتبہ کے جس کا ان آیتوں میں ذکر ہے میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے تن و توش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کو گھیر رکھا ہے
🌹 اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَّا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَٰرُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَٰرَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ (اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہو سکتی {ديكھ نہیں سکتی} اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے) الأنعام: 103
🌹 کیا تو نے اللہ عز وجل کا یہ ارشاد نہیں سنا: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِىَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِىٌّ حَكِيمٌ (ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے) الشوری: 51
❤ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا
🌹 اللہ تعالى نے فرمایا: يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ (اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کى) المائدة: 67
❤ اور تیسری بات یہ کہ جو آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ ہونے والی باتوں کو جانتے تھے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا
🌹 اور اللہ فرماتا ہے کہ: قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ (کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا) النمل: 65
📚 صحيح مسلم: 344
✔ شيئر کريں "صدقہ جاریہ" ہے